اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،برطانیہ میں 7 اور 8 مئی کو ہونے والے مقامی انتخابات میں کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی کو حالیہ برسوں کی بدترین انتخابی ناکامیوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی نے مقامی کونسلوں کی سیکڑوں نشستیں کھو دیں جبکہ کئی اہم کونسلوں کا کنٹرول بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ دوسری جانب نائجل فاریج کی قیادت میں دائیں بازو کی جماعت "ریفارم برطانیہ" نمایاں کامیابی کے ساتھ انتخابات کی بڑی فاتح بن کر سامنے آئی۔
اگرچہ سیاسی تجزیہ کار اس شکست کی بنیادی وجوہات برطانیہ کے اندرونی مسائل، جیسے معاشی بدحالی، مہنگائی، مہاجرین کا بحران اور عوامی خدمات پر بڑھتے دباؤ کو قرار دے رہے ہیں، تاہم متعدد مغربی ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف جنگ اور اس کے معاشی اثرات کو بھی ایک اہم اضافی سبب قرار دیا ہے۔
برطانوی اخبار "ایوننگ اسٹینڈرڈ" نے انتخابات سے قبل اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ لیبر پارٹی کے کارکنان اور امیدواروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافہ، خصوصاً ایندھن کی قیمتوں، توانائی کے بلوں اور مہنگائی میں اضافے نے شہری علاقوں، خاص طور پر لندن میں، پارٹی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاشی دباؤ نے لیبر پارٹی کے روایتی ووٹروں میں بھی بے چینی پیدا کی۔
امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی نے یورپی ووٹروں، خصوصاً برطانیہ میں، شدید عوامی ناراضی کو جنم دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس صورتحال کا سیاسی فائدہ زیادہ تر دائیں بازو کی جماعتوں کو ہوا جبکہ اسٹارمر کی قیادت والی لیبر پارٹی جیسے اعتدال پسند سیاسی دھڑوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی دوران "بی بی سی" اور "گارڈین" سمیت دیگر برطانوی ذرائع ابلاغ نے بھی رپورٹ کیا کہ اسٹارمر متعدد بار ایران جنگ کے برطانیہ کی معیشت پر طویل المدتی اثرات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔ ان رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز جیسے اہم توانائی راستوں میں کشیدگی نے برطانیہ میں ایندھن، توانائی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو متاثر کیا، جس سے عوام پر شدید معاشی دباؤ بڑھا۔
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد کیئر اسٹارمر نے شکست کی سیاسی ذمہ داری قبول کی، تاہم مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے نتائج کو "سخت اور تشویشناک" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی اس تجربے سے سیکھ کر مستقبل میں اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ ایران جنگ لیبر پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ نہیں تھی، لیکن اس نے برطانیہ کے اندرونی معاشی اور سیاسی مسائل کے ساتھ مل کر عوامی ناراضی میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں ووٹروں کا رجحان حکومت مخالف جماعتوں کی جانب بڑھ گیا۔
آپ کا تبصرہ